vehicle transfer other province Punjab

پنجاب میں دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن اب ممکن | 3 فروری سے نیا سرکاری نظام نافذ

3 فروری سے پنجاب میں دوسرے صوبوں اور اسلام آباد کی گاڑیوں کی منتقلی اور ری رجسٹریشن ممکن بنا دی گئی۔ نئی نمبر پلیٹ، مکمل طریقہ کار، فیس اور ضروری شرائط یہاں جانیں۔

پنجاب میں دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن: شہریوں کے لیے بڑی سہولت

پنجاب حکومت نے گاڑی مالکان کے لیے ایک اہم اور انقلابی سہولت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اب دوسرے صوبوں اور اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو پنجاب میں منتقل اور ری رجسٹر کروانا ممکن ہو گیا ہے۔
یہ نیا نظام 3 فروری سے باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، جس سے لاکھوں گاڑی مالکان کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔


🚗 کون سی گاڑیاں پنجاب میں ری رجسٹر ہو سکتی ہیں؟

نئے فیصلے کے مطابق اب درج ذیل علاقوں کی گاڑیاں پنجاب میں منتقل کی جا سکیں گی:

سندھ میں رجسٹرڈ گاڑیاں

خیبر پختونخوا کی گاڑیاں

بلوچستان کی رجسٹرڈ گاڑیاں

اسلام آباد نمبر پلیٹ والی گاڑیاں

یہ تمام گاڑیاں پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ری رجسٹر ہو کر پنجاب کی نئی نمبر پلیٹ حاصل کر سکیں گی۔


🔄 ری رجسٹریشن کا مقصد کیا ہے؟

اس اقدام کے پیچھے حکومت پنجاب کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:

گاڑیوں کے ریکارڈ کو ایک صوبے میں منظم کرنا

جعلی اور غیر قانونی گاڑیوں کی روک تھام

ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا

شہریوں کو بار بار دوسرے صوبوں کے دفاتر کے چکر سے نجات

پنجاب میں ٹریفک اور سیکیورٹی نظام کو بہتر بنانا

پنجاب میں دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن کا نیا نظام نافذ

پنجاب میں دوسرے صوبوں اور اسلام آباد کی گاڑیوں کی ری رجسٹریشن، نئی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا سرکاری نظام

📝 گاڑی پنجاب میں منتقل کروانے کا طریقہ کار

پنجاب میں گاڑی کی ری رجسٹریشن کے لیے درج ذیل مراحل مکمل کرنا ہوں گے:

1️⃣ قریبی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس پنجاب سے رجوع کریں
2️⃣ گاڑی کی اصل رجسٹریشن بک یا اسمارٹ کارڈ جمع کروائیں
3️⃣ شناختی کارڈ کی کاپی فراہم کریں
4️⃣ گاڑی کی فزیکل ویریفکیشن مکمل کروائیں
5️⃣ مقررہ فیس اور ٹیکس جمع کروائیں
6️⃣ پنجاب کی نئی نمبر پلیٹ حاصل کریں

💰 فیس اور ٹیکس سے متعلق اہم معلومات

فیس کا انحصار گاڑی کے انجن کیپسٹی پر ہوگا

پرانی ٹیکس ادائیگی کا ریکارڈ لازمی ہوگا

کسی بھی بقایا ٹیکس کی ادائیگی ضروری ہوگی

⚠️ اہم ہدایات

✔️ گاڑی مالک خود موجود ہو
✔️ تمام اصل دستاویزات ساتھ ہوں
✔️ ایجنٹ یا غیر متعلقہ افراد سے گریز کریں
✔️ صرف سرکاری ایکسائز آفس سے رجوع کریں


🚦 شہریوں کے لیے یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو:

پنجاب منتقل ہو چکے ہیں

دوسرے صوبے کی گاڑی استعمال کر رہے تھے

بار بار چالان یا قانونی مسائل کا سامنا کر رہے تھے

اب وہ آسانی سے اپنی گاڑی کو پنجاب میں قانونی طور پر رجسٹر کروا سکیں گ

💰 پنجاب میں گاڑی ری رجسٹریشن کی فیس (تخمینی جدول)

⚠️ نوٹ: فیس گاڑی کی انجن کیپسٹی اور ماڈل کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ حتمی فیس ایکسائز آفس میں کنفرم کی جاتی ہے۔

گاڑی کی قسمانجن کیپسٹیمتوقع رجسٹریشن فیس
موٹر سائیکل70cc – 125cc1,500 تا 3,000 روپے
موٹر سائیکل126cc – 200cc3,000 تا 5,000 روپے
کار660cc – 1000cc15,000 تا 30,000 روپے
کار1001cc – 1300cc30,000 تا 50,000 روپے
کار1301cc – 1800cc60,000 تا 100,000 روپے
SUV / جیپ1800cc سے زائد120,000 روپے یا زائد
کمرشل گاڑیاںمختلفایکسائز آفس کے مطابق

✔️ اضافی چارجز:

نئی پنجاب نمبر پلیٹ فیس

اسمارٹ کارڈ فیس

بقایا ٹوکن ٹیکس (اگر موجود ہو)

🏙️ پنجاب کے بڑے شہروں میں گاڑی ری رجسٹریشن گائیڈ

📍 لاہور

متعلقہ دفتر: ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس لاہور

سہولت: فزیکل ویریفکیشن، نئی نمبر پلیٹ، اسمارٹ کارڈ

رش زیادہ ہوتا ہے، صبح جلد پہنچنا بہتر

📍 راولپنڈی

اسلام آباد کی گاڑیوں کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا دفتر

وہیکل ٹرانسفر اور ری رجسٹریشن ایک ہی دن ممکن

بائیو میٹرک تصدیق لازمی

📍 فیصل آباد

ٹیکسٹائل سٹی ہونے کی وجہ سے کمرشل گاڑیوں کی تعداد زیادہ

تمام صوبوں کی گاڑیاں قابلِ منتقلی

اصل دستاویزات کی سخت جانچ ہوتی ہے

📍 ملتان

جنوبی پنجاب کا مرکزی ایکسائز آفس

کم رش، نسبتاً تیز پراسیس

موٹر سائیکل اور کار دونوں کے لیے سہولت دستیاب

📍 گوجرانوالہ

پرانی گاڑیوں کی ویریفکیشن پر خصوصی توجہ

انجن اور چیسز نمبر کا واضح ہونا ضروری

📍 سیالکوٹ

امپورٹڈ گاڑیوں کی ری رجسٹریشن زیادہ ہوتی ہے

کسٹمز کلیئرنس پیپرز ساتھ رکھنا لازمی

📍 بہاولپور

جنوبی پنجاب کے شہریوں کے لیے سہولت

کم وقت میں نئی نمبر پلیٹ جاری کی جاتی ہے

⚠️ سٹی وائز اہم ہدایات

✔️ ہر شہر میں گاڑی کی فزیکل ویریفکیشن لازمی ہے
✔️ مالک کا خود موجود ہونا ضروری
✔️ بائیو میٹرک فیل ہونے کی صورت میں پراسیس رک سکتا ہے
✔️ ایجنٹ کے ذریعے کام کروانے سے گریز کریں

More by Agco

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *